خوفناک فیصلہ کیا
خوفناک فیصلہ کیا
میرا نام پائل ہے اور یہ میری زندگی کی وہ سچی داستان ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ میں انڈیا کے ایک انتہائی خوبصورت، پرسکون اور چھوٹے سے گاؤں میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی جہاں روایتوں کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ ہماری زندگی بہت سادہ تھی اور میں اپنی دھن میں مگن رہنے والی لڑکی تھی جس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا
کہ میری تقدیر میں کوئی بڑا طوفان لکھا ہے۔ ایک دن تپتی دھوپ میں ہمارے گاؤں کی مٹی پر ایک اجنبی کے قدم پڑے جس کا نام عمار تھا۔ وہ شہر کا ایک انتہائی امیر، پڑھا لکھا اور بہت ہی وجیہہ مسلم لڑکا تھا جو یہاں کسی سرکاری سروے کے سلسلے میں چند دن کے لیے آیا تھا۔ اسے پہلی بار دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن جیسے رک سی گئی تھی اور مجھے محسوس ہوا کہ
میری روح اس کی طرف کھینچی چلی جا رہی ہے۔ عمار کا انداز سب سے الگ اور دلنشین تھا جس نے گاؤں کی دوسری لڑکیوں کی طرح میرے دل پر بھی جادو کر دیا تھا۔ وہ جب بھی مجھ سے بات کرتا تو میری آنکھیں حیا سے جھک جاتیں اور مجھے اس سے شدید محبت کا احساس ہونے لگا۔ عمار کا سروے کا کام روزانہ کا تھا اور اسی بہانے ہم دونوں ایک دوسرے کے
قریب آنے لگے کیونکہ قسمت ہمیں بار بار ملا رہی تھی۔ وہ گاؤں کے کھیتوں اور پگڈنڈیوں پر مجھ سے ملتا اور ہم گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے جس دوران ذات پات اور مذہب کی دیواریں مٹ گئیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے عشق میں اس حد تک گرفتار ہو چکے تھے کہ ہمیں دنیا اور اس کے رسم و رواج کی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی۔ ایک شام جب آسمان پر
شفق کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اور ہر طرف گہرا سناٹا تھا، ہم ایک ویران جگہ پر ملے۔ اس وقت جذبات کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ ہماری عقل پر پردے پڑ گئے اور ہم محبت کی آخری حدیں بھی پار کر گئے۔ اس مدہوشی کے عالم میں ہمارے درمیان ہمبستری ہو گئی جو ہمارے لازوال پیار کی مہر بن چُکی تھی۔ اس رات مجھے محسوس ہوا کہ میں اب صرف اپنی نہیں رہی بلکہ روح
اور جسم کے ساتھ عمار کی ہو چُکی ہوں۔ عمار نے مجھے اپنی باہوں میں بھر کر یقین دلایا کہ وہ دنیا کی کسی طاقت کو ہمارے درمیان نہیں آنے دے گا۔ جدائی کا وہ وقت بہت ہی کٹھن تھا جب عمار کا سروے مکمل ہو گیا اور اس کے جانے کا دن آ پہنچا۔ اس نے جانے سے پہلے میرا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا، میرے ماتھے کو چوما اور روتی آنکھوں کے ساتھ پکا وعدہ
کیا کہ وہ بہت جلد واپس آئے گا۔ اس نے کہا تھا کہ پائل تم صرف میری ہو اور میں تمہیں یہاں سے لے جانے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دوں گا۔ میں نے اس کے وعدے پر پورا یقین کر لیا اور نم آنکھوں کے ساتھ اسے گاؤں کی حدود سے رخصت کیا جہاں سے وہ اپنے شہر چلا گیا۔ عمار کے جانے کے بعد گاؤں سونا ہو گیا اور میں روزانہ اسی جگہ جا کر بیٹھتی جہاں ہم نے وقت
گزارا تھا۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ میری طبیعت خراب رہنے لگی اور جب میں نے غور کیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں امید سے ہوں۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ میں کنواری تھی اور عمار کا بچہ میرے پیٹ میں پل رہا تھا، لیکن میں نے یہ راز اپنے دل میں دفن کر لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گی اور صرف اور صرف عمار کے لوٹ آنے
کا انتظار کروں گی کیونکہ مجھے اس کے پیار پر پورا بھروسہ تھا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، میرے اندر کی تبدیلی نمایاں ہونے لگی اور میرا پیٹ آہستہ آہستہ بڑا ہونا شروع ہو گیا۔ ایک کنواری لڑکی کا پیٹ باہر نکلنا اس چھوٹے سے روایتی گاؤں میں کسی بہت بڑے دھماکے سے کم نہیں تھا جہاں لوگ بات کا بتنگڑ بنا دیتے تھے۔ سب سے پہلے میری ماں اور بھابھیوں
کی نظر مجھ پر پڑی اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے جیسے انہوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ انہوں نے مجھ سے سوالات شروع کر دیے لیکن میں خاموش رہی اور عمار کا نام اپنی زبان پر نہیں لایا کیونکہ میں اس کی عزت پر حرف نہیں آنے دینا چاہتی تھی۔ بس اسی دن سے میری زندگی جہنم بن گئی اور میرے اپنے ہی گھر والے میرے جانی دشمن بن گئے جو مجھے ہر وقت
شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جب یہ بات گھر کی چار دیواری سے نکل کر پورے گاؤں میں پھیلی تو جیسے مجھ پر تانوں اور رسوائی کی تپتی ہوئی بارش ہونے لگی۔ گاؤں کی عورتیں مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیتیں اور راستے چلتے لوگ مجھ پر اونچی آواز میں آوازیں کستے اور بد چلن کہتے تھے۔ میرے بھائیوں اور باپ کا سر شرم سے جھک گیا تھا جس کا غصہ وہ
روزانہ مجھ پر نکالتے اور مجھے ذلیل و خوار کرتے تھے۔ میں راتوں کو اکیلے اندھیرے کمرے میں بیٹھ کر زار و قطار روتی تھی اور خدا سے عمار کی سلامتی اور واپسی کی دعائیں مانگتی تھی۔ جب بھی میرا دل ٹوٹنے لگتا، میں اپنا ہاتھ اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ پر رکھ لیتی اور خود کو اندر سے مضبوط کرتی کہ مجھے ٹوٹنا نہیں ہے۔ میں اپنے آنسو پونچھ لیتی تاکہ میرے رونے اور
پریشان ہونے سے میرے پیٹ میں پلنے والے معصوم بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے جو عمار کی نشانی تھا۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا اور میرا پیٹ اب کافی بڑا ہو چکا تھا جس کی وجہ سے میرا اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ گھر والوں کا رویہ دن بہ دن مزید سخت اور ظالمانہ ہوتا جا رہا تھا کیونکہ برادری کا دباؤ ان پر بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ وہ
مجھے کھانا پینا بھی برائے نام دیتے اور ہر وقت کوستے رہتے کہ کاش میں پیدا ہوتے ہی مر جاتی یا کہیں ڈوب مرتی۔ ان سب کٹھن حالات کے باوجود میں نے اپنے اندر کی ہمت کو مرنے نہیں دیا اور روزانہ صبح عمار کے راستے کی طرف دیکھتی۔ مجھے یقین تھا کہ میرا عمار جھوٹا نہیں ہو سکتا اور وہ اپنی پائل کو اس دلدل میں اکیلا مرنے کے لیے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ میری
خاموشی اور میرا صبر دیکھ کر گاؤں والے مزید طیش میں آ جاتے لیکن میں نے اپنے ہونٹ سی لیے تھے اور بس اس کے انتظار میں دن گن رہی تھی۔ جب میری حمل کا نواں مہینہ شروع ہوا تو گھر والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے برادری کے کہنے پر ایک خوفناک فیصلہ کیا۔ ایک رات میرے باپ اور بھائیوں نے مجھے کمرے میں بند کر دیا اور مجھ پر دباؤ ڈالا کہ
میں اس بچے کو فوراً گرا دوں تاکہ خاندان کا داغ دھل سکے۔ میں نے روتے ہوئے اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور صاف انکار کر دیا کہ میں اپنی جان دے دوں گی مگر اپنے بچے کو نہیں مارنے دوں گی۔ میرے انکار نے ان کے غصے کو آگ لگا دی اور انہوں نے بے رحمی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے مجھے لکڑیوں اور لاتوں سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ مجھے فرش پر
گھسیٹتے رہے اور میں صرف اپنے پیٹ کو بچانے کے لیے گول دائرہ بن کر ان کی ضربیں اپنے جسم پر لیتی رہی۔ میں درد سے چیخ رہی تھی لیکن گاؤں کا کوئی بھی بندہ میری مدد کے لیے آگے نہیں آیا اور سب تماشہ دیکھتے رہے۔ اسی سسکتے، تڑپتے اور خون آلود وقت میں جب میری سانسیں اکھڑ رہی تھیں، اچانک گاؤں کے موڑ پر گاڑیوں کا ایک قافلہ آ کر رکا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا
اور اس میں سے عمار نمودار ہوا جو پہلے سے بھی زیادہ امیر اور طاقتور لگ رہا تھا اور اس کے چہرے پر جلال تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی جو زمین پر نیم بے ہوش پڑی تھی، اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اس نے میرے بھائیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ عمار کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر میری مرتی ہوئی روح میں جیسے نئی زندگی دوڑ گئی اور میری
آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے جھک کر مجھے اپنی باہوں میں اٹھایا، میرے زخموں کو دیکھا اور پوری قوت سے سب کے سامنے اعلان کیا کہ یہ لڑکی میری ہے اور اس کے پیٹ میں میرا بچہ ہے۔ عمار کا یہ روپ دیکھ کر میرے گھر والوں اور پورے گاؤں والوں پر سکتہ طاری ہو گیا اور کسی کو آگے بڑھنے کی جرات نہ ہوئی عمار نے کسی کی پرواہ کیے بغیر گاؤں
کے پنچایت اور بڑوں کو جمع کیا اور صاف کہا کہ میں پائل کو پوری عزت کے ساتھ اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں۔ اس نے میرے گھر والوں کے تمام اعتراضات اور برادری کے طعنوں کو پاؤں تلے روند دیا اور کہا کہ شادی اب اور اسی وقت ہوگی۔ عمار نے گاؤں والوں اور میرے خاندان کے سامنے انہی کے مروجہ رواج اور رسومات کے مطابق دھوم دھام سے مجھ سے شادی
کی تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ اس نے میری مانگ میں سندور بھرا اور سب کے سامنے میرا ہاتھ تھام کر مجھے اپنی قانونی بیوی تسلیم کر لیا جس سے سب کے منہ بند ہو گئے۔ شادی کی رسومات مکمل ہونے کے بعد وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر پوری عزت اور شان و شوکت کے ساتھ سرحد پار اپنے ملک پاکستان لے آیا۔ پاکستان پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میں کسی
نئی اور محفوظ دنیا میں آ گئی ہوں جہاں ظلم کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ پاکستان آنے کے کچھ ہی دن بعد مجھے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں خدا کے فضل سے میرے ہاں ایک بہت ہی خوبصورت اور صحت مند بیٹا پیدا ہوا۔ جب عمار نے ہمارے بیٹے کو اپنی گود میں لیا تو اس کی آنکھوں میں جو خوشی اور فخر تھا، اس نے میرے پچھلے نو مہینوں کے سارے دکھ اور
درد مٹا دیے۔ ہمارے بیٹے کی پیدائش نے ہمارے گھر کو رونق بخش دی اور عمار کے خاندان نے بھی مجھے دل سے قبول کر کے بہت پیار دیا۔ اس بچے کے آنے کے بعد عمار اور میرے درمیان محبت پہلے سے بھی کہیں زیادہ گہری، مضبوط اور لازوال ہو چکی ہے۔ اب میں ایک امیر گھرانے کی عزت دار بہو اور ایک پیارے سے بچے کی ماں ہوں، اور ہم دونوں اپنی زندگی بہت خوشی
سے گزار رہے ہیں۔ پائل کی یہ داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر محبت سچی ہو اور انسان میں ہمت ہو، تو وہ دنیا کے ہر ظلم کو ہرا سکتی ہے۔













Comments
Post a Comment