Posts

وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (4)

Image
وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (4) میری ممی نے اپنی سہلی کے بیٹے سے شادی کا بولی جب میں نے انکار کیا تو ممی روتی ھوئی روم سے چلی گئی پھر پاپا نے میرے آگے ہاتھ جوڑ کر مجھے شادی کیلئے مجبور کیا میں ممی پاپا کی آنکھوں سے آنسوں نہیں دیکھ سکتی تھی اور میں نے ہاں کر دی پھر گھر پر کھانے کیلئے آئے لڑکا تو شکل صورت میں اسمارٹ تھا اور مجھے دیکھتے ھی پسند کر لیا اور  رشتہ پکا ھو گیا کوئی دھوم دھام سے شادی نہ ھوئی صرف نکاح ھوا میں اپنے گزرے وقت حالات سے بھی ڈر رھی تھی اور دل میں دعائیں کر رھی تھی کے یہ شادی کامیاب ھو جائے میرے چوتھے شوہر کو کچھ نہ ھو مجھے دلہن بنا کر اپنے گھر لائے ممی پاپا مجھے دعائیں دیتے ھوئے چلے گئے میرا دل ابھی بھی پچلی یادوں سے ڈرا ھوا تھا کے اس بار شوہر سلامت رھے   دلہن بنی بیٹھی تھی شوہر آتے ھی مجھے چومنے لگا شوہر نے ننگا ھو کر مجھے لن دیکھایا شوہر کا لن دیکھ کر میں مسکرائی شوہر نے کہا ناراض نہ ھو تو چوسوں گی میں مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا پھر میں نے شوہر کے لن کو ہاتھ میں لیا اور چومتی ھوئی من...

خوفناک فیصلہ کیا

Image
خوفناک فیصلہ کیا میرا نام پائل ہے اور یہ میری زندگی کی وہ سچی داستان ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ میں انڈیا کے ایک انتہائی خوبصورت، پرسکون اور چھوٹے سے گاؤں میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی جہاں روایتوں کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ ہماری زندگی بہت سادہ تھی اور میں اپنی دھن میں مگن رہنے والی لڑکی تھی جس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا  کہ میری تقدیر میں کوئی بڑا طوفان لکھا ہے۔ ایک دن تپتی دھوپ میں ہمارے گاؤں کی مٹی پر ایک اجنبی کے قدم پڑے جس کا نام عمار تھا۔ وہ شہر کا ایک انتہائی امیر، پڑھا لکھا اور بہت ہی وجیہہ مسلم لڑکا تھا جو یہاں کسی سرکاری سروے کے سلسلے میں چند دن کے لیے آیا تھا۔ اسے پہلی بار دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن جیسے رک سی گئی تھی اور مجھے محسوس ہوا کہ  میری روح اس کی طرف کھینچی چلی جا رہی ہے۔ عمار کا انداز سب سے الگ اور دلنشین تھا جس نے گاؤں کی دوسری لڑکیوں کی طرح میرے دل پر بھی جادو کر دیا تھا۔ وہ جب بھی مجھ سے بات کرتا تو میری آنکھیں حیا سے جھک جاتیں اور مجھے اس سے شدید محبت کا احساس ہونے لگا۔ عمار کا سروے کا کام روزانہ کا تھا اور اسی ب...